بھٹکل 12 /اپریل (ایس او نیوز) آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کی طرف سے جاری کی گئی پہلی لسٹ میں ضلع اتر کنڑ ا کے تمام حلقوں کے لئے ٹکٹوں کا اعلان کیا گیاہے جس کے مطابق تمام موجودہ ایم ایل اے کو ٹکٹ دے کر تبدیلی کی ہوا کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔ ریاستی انچارج ارون سنگھ نے منگل کو دہلی میں کی گئی اپنی پریس کانفرنس میں بی جے پی امیدواروں کی فہرست جاری کرنے کے ساتھ ہی جیسے ہی خبر دی کہ اُترکنڑا کے تمام پانچوں موجودہ ایم ایل ایز کو ٹکٹ دی گئی ہے، ٹی وی اور سوشیل میڈیا پر پیش کی گئی تمام خبروں کو جھوٹی ثابت کردیا۔
منگل کو صبح سے شام تک معروف کنڑا ٹی وی چینلوں پر کچھ زیادہ ہی جھوٹی خبریں نشر کی گئیں، یہاں تک کہ اسپیکر وشوشیور ہیگڈے کاگیری کو بھی ٹکٹ نہ دئے جانے کا بریکنگ نیوز چلایا، یہاں تک کہ یہ بھی بتایا گیا کہ خبر سنتے ہی کاگیری صاحب بینگلور کے لئے روانہ ہوگئے ہیں، بھٹکل کے تعلق سے بھی کہا گیا تھا کہ سنیل نائک کو بھی ٹکٹ نہ دئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن جب پریس کانفرنس میں پانچوں موجودہ ایم ایل ایز کو ٹکٹ دینے کا اعلان ہوا تو ٹی وی چینلوں کو سانپ سونگھ گیا۔
اُترکنڑا کے سرسی اسمبلی حلقہ سے وشویشور ہیگڈے کاگیری، یلاپور حلقہ سے شیورام ہیبارا، کاروار حلقہ سے روپالی نائیک، کمٹہ حلقہ سے دیناکر شیٹی بھٹکل سے سنیل نائیک اور ہلیال سے سنیل ہیگڑے کو ٹکٹ دئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ضلع میں لڑنے کے لیے پرانی ٹیم: ریاست میں 224 حلقے ہیں جس میں سے بی جے پی نے 189 حلقوں کے لیے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پہلی فہرست میں اُترکنڑا کے تمام پانچوں ایم ایل ایز کے نام شامل ہیں، اس طرح ضلع میں پرانی ٹیم کو ہی انتخابی اکھاڑے میں اُتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تبدیلی کی ہواؤں کی جھوٹی خبریں: یہ خبر پھیل گئی تھی کہ بنیادی طور پر ضلع کے بھٹکل، سر سی اور کاروار حلقوں کے امیدواروں کو تبدیل کیا جائے گا۔ وشویشور ہیگڈے کاگیری، جنہوں نے سرسی حلقہ سے 6 بار کامیابی درج کی ہے، اور اسپیکر جیسے اہم عہدہ پر رہے ہیں، بتایا گیا تھا کہ ان کو بھی ٹکٹ نہیں دی جارہی ہے۔ ٹی وی میڈیا میں بتایا جارہا تھا کہ انہیں کسی دوسرے حلقے سے ایم پی کا ٹکٹ دیا جائے گا۔ اس طرح یہ خبر پھیل گئی تھی کہ سرسی میں ایک نئے چہرے کا آنا یقینی ہے۔ خاص طور پر منگل کی شام کو فہرست جاری ہونے سے کچھ دیر پہلے تک، کاگیری کے ٹکٹ سے محروم ہونے کی خبر زور و شور سے پھیل گئی تھی جس سے ریاست بھر میں ہلچل مچ گئی تھی۔ مگر رات کو پہلی لسٹ جاری ہوتے ہی بی جے پی کارکنان نے راحت کی سانس لی۔
اسی طرح بھٹکل میں سنیل نائک اور کاروار میں روپالی نائیک کی جگہ بھی نئے چہروں کے سامنے آنے کی بات میڈیا کے ذریعے دی جارہی تھی، لیکن یہ بات بھی جھوٹی ثابت ہوئی اور پہلی لسٹ میں دونوں کو بھی ٹکٹ دینے کا اعلان کیا گیا۔